گئے تو ہیں
Poet: رشید حسرتؔ By: Rasheed Hasrat, Quetta ہم پر شعور باب اتارے گئے تو ہیں
گیسو غزل کے تھوڑے سنوارے گئے تو ہیں
کھینچا ہے کہکشاؤں نے اپنی طرف ہمیں
لگتے ہیں ہاتھ کتنے ستارے، گئے تو ہیں
جاری تھی جنگ ضد کی خداؤں کے درمیاں
بے وجہ لوگ بیچ میں مارے گئے تو ہیں
سنتے ہیں آج شاہ پہ رغبت عطا کی ہے
ہوتا ہے کیا نصیب، پکارے گئے تو ہیں
دریا سے کتنی پائی ہے دریا دلی کی خُو
کہنے کو بار بار کنارے گئے تو ہیں
لاتا ہے کون دیکھیں ابھی گوہرِ مراد
اک دوڑ ہے کہ سارے کے سارے گئے تو ہیں
دیکھیں رشیدؔ ساتھ نبھاتا ہے کتنا ضبط؟
اپنے خلاف لوگ ابھارے گئے تو ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






