کیونکہ ٹھنڈی “چھاں“ نہیں (دوبارہ)
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ ہر وقت ہنستی رہتی ہے
وہ ہر وقت مَسکراتی ہے
وہ خود بھی خوش رہتی ہے
وہ سب کو بھی ہنساتی ہے
جب دیکھو اَس کے لبوں پہ
میٹھی سی مسکان رہتی ہے
وہ بہت ہنس مَکھ ہے لیکن
میں جب اَس کو دیکھتی ہوں
اَس کے ہنستے چہرے پر
آنکھیں اَداس رہتی ہیں
مجھ سے کچھ کہتی ہیں
اَس کی آنکھوں میں نمی ہے
لیکن آنکھوں کی نمی میں
جاگی کوئی پیاس رہتی ہے
ایسا لگتا ہے جیسے
اسکی آنکھیں اِداس ریتی ہیں
ایک دن باتوں باتوں میں
میں نے اَس سے یہ پوچھا
ہنستی ہنساتی رہتی ہو
تَم مَسکراتی رہتی ہو
لیکن ایسا کیوں لگتا ہے
تم بہت اداس رہتی ہو
کس چیز کی کمی ہے آخر
کس شے کی تلاش رہتی ہو
ہونٹوں پہ مسکان مگر
آنکھوں سے اداس رہتی ہو
تمہاری مسکراہٹ میں
اداسی کیوں جھلکتی ہے
اسی بھی کیا بات ہے
کچھ تو ہمیں بتاؤ
ایسا بھی کیا راز ہے
کچھ تو ہمیں سَناؤ
اس نے مَسکرا کے دیکھا
اور مجھ سے کہنے لگی
برسوں پہلے کی بات ہے
کہ ہم بہت غریب تھے
لیکن بہت خوشحال تھے
لیکن آج کی بات ہے
کہ ہم بہت خوشحال ہیں
لیکن ہم کنگال ہیں
آج پہلی بار اَس نے
ضبط کی چادر کھو دی
یہ کہا اور رو دی
قوت بیاں نہیں
کیونکہ ٹھنڈی چھاں نہیں
ہمارے پاس “ماں“ نہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






