کسی آواز کا مجھ کو سہارا تک نہیں تھا
Poet: سید سلمان حیدر نقوی By: Salman Naqvi, Lahoreکسی آواز کا مجھ کو سہارا تک نہیں تھا
میرے اندر میرے سوا کوئی دوسرا تک نہیں تھا
میں اپنی ذات کے صحرا میں تنہا چل رہا تھا
میری منزل کا کوئی رستہ دور تک نہیں تھا
بہت چاہا کہ رکھ دوں سر کسی کے شانے پر اک پل
مگر قسمت میں ایسا کوئی شانہ تک نہیں تھا
میرے ہونٹوں پہ ٹھہری تھی فقط خاموش سی ہنسی
میری آنکھوں میں جو گزرا، وہ کسی نے پڑھا تک نہیں تھا
میں اپنے زخم سینے میں لیے پھرتا رہا برسوں
میرا دکھ میرے چہرے سے مگر چھپا تک نہیں تھا
میں خود کو تھام کر بیٹھا رہا ٹوٹا ہوا اندر
میری حالت پہ مجھ سے بڑھ کے کوئی رویا تک نہیں تھا
بہت چہرے تھے میرے گرد، پھر بھی دل اکیلا تھا
ہجومِ شہر میں اپنا کوئی چہرہ تک نہیں تھا
سلمانؔ اپنے ہی سینے سے لپٹ کر رات بھر رویا
میری حالت میرے سوا کوئی سمجھنے والا تک نہیں تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






