کراچی

Poet: majassaf imran By: majassaf imran, gujrat

آؤ مُجسف تمھیں اک شہر بتاؤں جہاں انسان کی کوئی قیمت نہیں
جہاں انسان مَسل دیے جاتے ہیں پھولوں کی ماند ارمان کی کوئی قیمت نہیں

خدا گوا ہے میں نے ہر روز اس شہر میں خون کی اک ہولی دیکھی ہے
یہاں راج ہے جنگل کا بھیڑیے رہنما اس کےیہاں جان کی کوئی قیمت نہیں

آتی ہے شرم کِتنا خوش ہوتا ہوگا میرا دُشمن دیکھ کر تَماشا میرے وطن کا
ہر شخص ہے یہاں گولیاں زِیب تَن کیےہوئےجیسے زبان کی کوئی قیمت نہیں

بھائی، بھائی کاخون چوس رہا بیٹاباپ کا دُشمن، یہ وقت سے پہلےقیامت کیوں؟
مسروف ہیں لوٹنےمیں اسےاس شہرکےرکھوالے یہاں ایمان کی کوئی قیمت نہیں

Rate it:
Views: 432
18 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL