چھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانو
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zhahid Sheikh, Lahore,Pakistanچھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانوں
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
لے کے ہم ساتھ چلیں مفلسوں، لاچاروں کو
بن کے دنیا میں رہیں ان کے سہاروں کی طرح
ایک تاریکی میں بستے رہے انسان کئی
جن کے لٹتے رہے ہر دور میں ارمان کئی
زیست میں جن کے اندھیرے رہے غاروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
کچھ بھی حاصل نہ ہوا جنگوں سے اب تک ہم کو
ہم پھیلاتے ہیں ہر اک شخص کی خاطر غم کو
جیتے جی مرتے ہیں سب ظلم کے ماروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
پیار سے بڑھ کے ہمیں کوئی بھی اب کام نہ ہو
سب ترقی ہی کریں کوئی بھی ناکام نہ ہو
ایک دوجے کے لیے چمکیں ستاروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
چھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانوں
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
لے کے ہم ساتھ چلیں مفلسوں ، لاچاروں کو
بن کے دنیا میں رہیں ان کے سہاروں کی طرح
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






