چلو تم بھی کر لو
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratہر شخص کرتا ہے تماشا جانا چلو تم بھی کر لو
مَرا نہیں ہر شخص کی ہے بدعا چلو تم بھی کر لو
اب ہو گی نَقل مُکانی تو آخری بار ہو گی
ہوتے ہیں مجھ پہ پہلے ہی سِتم چلو تم بھی کر لو
نہ جانے کون مانگتا ہے میں اُس کا نہیں ہو سکا
خود ہی خود سے اُلجھ گیا ہوں دعا چلو تم بھی کر لو
زندگی زندہ نہیں رہنے دیا مَر کے جِیا ہوں ہر بار میں
دغا باز تھے میرے اپنے دغا چلو تم بھی کر لو
جستجو رہی جائیں گے محبت میں بہت دور تک
قافلوں نے راستوں میں دی مات چلو تم بھی کر لو
وقتِ فُرست تمھیں بھی میرے غم جنجوڑتے ہوں گے
میرا عشق اگر تماشا ہے صاحب چلو تم بھی کر لو
میحانے کیوں جاؤں جھوم جاتا ہوں دیکھ کر تصویر ہی
اعتبار نہیں تمھیں مجھ پہ یہ مُجزہ ،چلو تم بھی کر لو
میں ہار گیا ہوں بازی نِسبت تھی تیرے شہر سے اُسکی
ورنہ اک نام ہے اپنا دھنگل ، چلو تم بھی کر لو
شاہد کے مجھ سے بھی ٹوٹا ہے خدا جانے دل کِسی کا
بدعا پہلے بھی ہے کسی غریب کی چلو تم بھی کر لو
موت ویسے ہی مجھ سے کھاتی ہے خوف یہ شخص کیا ہے
پانی کے گھر میں طُوفانو ں کا ظُلم نفیس ، چلو تم بھی کر لو
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






