پیاری نادیہ اور اس کے بچوں کے نام
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, dearborn, mi USAایک معصوم سی خواہش تھی
آسمان کو چھو لینا وہ چاہتی تھی
سپنے سہانے وہ دیکھا کر تی تھی
وقت کی لگامیں تھامنا چاہتی تھی
وہ پیاری معصوم سی ایک لڑکی
آج نا جانے کس منزل کی اور چل پڑی
پکارنا چاہوں بھی تو سن نہ پائے گی وہ
ایسے نگر وہ جا بسی
پیار سبھی سے کرتی تھی
ماں باپ کی آنکھوں کا تارا تھی
گود میں ایک بلی لئے
ہر پل پھرتی رہتی تھی
چھوٹے چھوٹے خواب سجا کے
دیس پیا کے جب سدھاری
پھول گلشن میں کھلے جب
زندگی اسے ہوگئی اور پیاری
کب سوچا تھا ایسا ہوجائے گا
ہرا بھرا گلشن خاک میں مل جائے گا
پیاری سی وہ لڑکی آگ میں جل مری
پھول دو گلشن کے ساتھ لے کر رب سے جا ملی
آج بھی یاد جب آتی ہے اس کی تب
دل میرا رونے لگتا ہے
ذہن کے گوشے میں کہیں جب
چھبی لہرائے اسکی تو
درد کی اتھا کہرائیوں میں من ڈولنے لگتا ہے
وہ پیاری سی لڑکی بہت یاد آتی ہے
بہت یاد آتی ہے ۔۔۔۔۔۔
(پیاری نادیہ اور اس کے بچوں کے نام جو اب اس دنیا میں نہیں )( اللہ اس کی مغفرت کرے آمین )
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






