پردیسیوں کے نام
Poet: Muhammad Yasir Ali By: Muhammad Yasir Ali, Rawalpindi خوشی خوشی پردیس آنے والے
اگر تو نے دیس میں
بارش کے بعد
دھرتی ماں کی آغوش سے اٹھنے والی
سندی سندی، دھیمی دھیمی
خوشبو کو محسوس کیا ہو گا
تو اب پردیس میں جب بھی
کوئی آوارہ بادل برسا ہوگا
تو تنہائی میں تو بھی رودیا ہوگا
اور خیالوں ہی خیالوں میں
خوشبو کو محسوس کیا ہوگا
پردیس سے دیس میں پہنچا ہوگا
اپنوں کو سوچا ہوگا
اور اداس ہوا ہوگا
دیس کو لوٹ کے آنے کو
تیرا جی چاہا ہوگا
مگر ہر بار
والدین کی بیماری کے اخراجات نے
بچو ں کی تعلیم اور ان کی خواہشات نے
جوانی کی دہلیز پار کرتی
جہیز کے انتظار میں بیٹھی
بہن کی صورت نے
یعنی کے فکرِ معاش نے
دیس کی جانب اٹھتے تیرے قدموں کو روکا ہوگا
نہ صرف تیرے بلکہ
تیری بیوی کے ارمانوں کو کچلا ہوگا
کچھ دیر تونے کچھ سوچا ہو گا
تصور میں تونے
تجھ سے امید بندھی نظروں کو دیکھا ہوگا
اور پھر سے تلاشِ معاش میں
اپنے کام کی جانب نکل پڑا ہوگا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






