پتہ ساحلوں کا بتاتے بتاتے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: شاہ عالم, Multanپتہ ساحلوں کا بتاتے بتاتے
میں ڈوبا کسی کو بچاتے بچاتے
دکھاؤ نہ استادیاں اس کو صاحب
کٹی عمر جس کی سکھاتے سکھاتے
وہ اب چھینتے ہیں نوالے ہمارے
جِنھیں اپنے ہاتھوں سے ہم تھے کھلاتے
وہ گم نامیوں میں کہیں کھو گیا ہے
کبھی لوگ جس کے طَبَل تھے بجاتے
میرا نام بھی وہ لبوں پر نہ لائے
جو شام و سحر تھے مرے گیت گاتے
وہ اب ہم سے نا آشنا ہو گئے ہیں
جو پلکوں پہ اپنی ہمیں تھے بٹھاتے
جھڑی ایک لگ جاتی ہے آنسوؤں کی
ترے خط ہمیشہ جلاتے جلاتے
اسے پاؤں پڑ کے منا لیتا میں بھی
اگر دیکھتا مڑ کے وہ جاتے جاتے
جسے روٹھنا ہے وہ اب روٹھ جائے
کہ میں تھک گیا ہوں مناتے مناتے
لگا بیٹھا نِسیان کا روگ دیپک
مسیحا کو اپنے بھلاتے بھلاتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






