پتھر برسانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: شاہ محمود, ملتانپتھر برسانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
مجھے مٹانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
گھائل بدن میں اب بھی میرے لوہو تھوڑا باقی ہے
پوچھ بہانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
سر سے لے کر پاؤں تک درد کا اب احساس نہیں
چوٹ لگانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
مدھم سے کچھ منظر جو آنکھیں اب بھی دیکھتی ہیں
تیر چلانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
گھر کے ایک دریچے کا جلنا کچھ کچھ رہتا ہے
آگ لگانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
دیکھو سالم اب تک ہے کمرے والی اک دیوار
اِسے گرانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
دور کہیں سے ایک صدا اب بھی سنائی دیتی ہے
چھوڑ کے جانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
دیپک برپا ہوا نہیں قہر تمھاری بستی پر
ستم مچانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






