ُپاکستان

Poet: جاوید صدیقی By: جاوید صدیقی, کراچی

کوئی دُودھ سے دُھلا نہیں یہاں پر
سیاست لپٹی ہوئی ہے جرم میں یہاں پر

دوسروں پر الزام لگانا ہے آسان لیکن
اپنے گریباں میں جھانکنا مشکل یہاں پر

ہاتھ ہیں ڈوبے ہوئے ناخون حق میں
مقتل گاہ ہیں سیاسی تنظیمیں یہاں پر

بن گیا ہے شب و روز فیشن یہاں سیاست کا
کہ لاشوں پہ چلتی ہے سیاست یہاں پر

قوموں میں انتشار در انتشارہے پھیلا
غدار وطن کا ہوا راستہ ہموار یہاں پر

ظالم و قاتل ہےں آزاد ہماری صفوں میں
کس سے کرے گا فریاد اب آدمی یہاں پر

ضمیر بکتا ہے یہاں چند کوڑیوں پر
انسانیت کو قتل کرتا ہے انساںیہاں پر

یہ کیسی جمہوریت ہے میرے پاک وطن میں
ابلاغ کو بھی زنجیر میں پنہاں کیا ہے یہاں پر

ہر ایک نے اوڑھ لی ہے چادرِ فرعونی
ہے کوئی جاوید اب وارثِ ا بن قاسم یہاں پر

Rate it:
Views: 503
11 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL