ویسے تو اس گھر کو اس نے چاہے کم خوشحالی دی
Poet: عطاالحسن By: ہارون فضیل, Islamabadویسے تو اس گھر کو اس نے چاہے کم خوشحالی دی
بیٹا بر خوردار دیا اور بیٹی حوصلے والی دی
غصے میں دونوں نے اک دوجے کے ہاتھ کو جھٹکا تھا
اور اب سوچ رہے ہیں پہلے کس نے کس کو گالی دی
کچھ میں خود بھی ہر اک شخص کی باتوں میں آ جاتا ہوں
کچھ ویسے بھی اس نے مجھ کو صورت بھولی بھالی دی
ورنہ کام تھا میرا تو پھولوں سے رزق کمانے تک
پھر اس نے اک باغ کی میرے ہاتھوں میں رکھوالی دی
دھوپ بڑھی تو وہ بھی اپنے اپنے پاؤں کھینچ گئے
میں نے اپنے حصے کی جن پیڑوں کو ہریالی دی
دل نے میری ایک صدا پر دونوں ہاتھوں دان کیا
جب زنبیل محبت نے جذبات سے مجھ کو خالی دی
تو بھی مان گیا اے دوست کہ دریا صرف ڈبوتا ہے
میرے بارے میں دنیا نے تجھ کو خام خیالی دی
پہلے میری آنکھوں سے سرمایہ چھینا نیندوں کا
بدلے میں پھر ہجر نے میری آنکھوں کو یہ لالی دی
وہ ہی دے گا مجھ کو پھر تعمیر اٹھانے کی ہمت
جس نے حسنؔ ان بام و در کو اتنی خستہ حالی دی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






