وہ کون تھی ؟؟؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنغمہ طیور تھا
نور کا ظہور تھا
باد صبا تھی چل رہی
جوانی تھی مچل رہی
پتوں کا عجب شور تھا
محو رقص مور تھا
موتیوں کی کتاب تھی
موتی کیا شراب تھی
وہ اک نگاہ جو پڑی
وہ کون تھی وہاں کھڑی
وہ حور باجمال تھی
نشہ تھا ایک جال تھی
وہ حسن کیا تھا تیر تھا
بدن بھی غزل میر تھا
میں پاس اسکے آ گیا
خمار مجھ پہ چھا گیا
ہوش میرے کھو گئے
حواس میرے سو گئے
ہاتھ اسکا میں نے تھام کر
کہا کہ اے نور نظر
تو کون ہے مجھکو بتا
لب تو ہلا کچھ تو سنا
کہنے لگی وہ گلبدن
اےجان جاں اے جان من
میں پیار ہوں قرار ہوں
گویا کہ روح بہار ہوں
آ مجھکو آ کے تھام لے
اور یہ لے ایک جام لے
میں نے بغیر سوچ کے
عقل کو اپنی نوچ کے
اسی کو ہمسفر لیا
اسی کو زاد راہ لیا
میں اس میں ہی گم ہو گیا
اسی میں قلب کھو گیا
پھر ایک دن کیا ہوا
مست تھا سویا ہوا
چپکے سے مجھ کو چھوڑ کر
ناطہ مجھ سے توڑ کر
چلی گئی چلی گئی
وہ درد مجھ کو دے گئی
کاغذ تھا اک وہاں پڑا
جس پہ تھا لکھا ہوا
دنیا میرا نام ہے
یہی میرا کام ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






