وہ انسان کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔١
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدے کر خرد کا تاج بنایا گیا اسے
تاروں کی انجمن میں سجایا گیا اسے
تنہائی افلاک میں ویراں تھی مشت خاک
وہ مشت خاک لے کے تراشا گیا اسے
سب جنتیں بنائی گئیں اسکے واسطے
پھر ایک دن جنت سے نکالا گیا اسے
شعلوں میں کبھی آندھیوں میں بھٹکتی رہی
موج حیات دہشتوں کو دیکھتی رہی
تاریخ بتاتی ہے کہ کیا کرتی ہے دنیا
یعقوب سے یوسف کو جدا کرتی ہے دنیا
سقراط کو سچ کی سزا پہ زہر پلایا
منصور کو ہر دور نے صولی پہ چڑھایا
پیدا ہوئے فرعون کئی نمرود بھی آئے
مٹی کے ہی خود ساختہ معبود بھی آئے
اس ظلم نے چھوڑا نہ پیغمبر کے بھی گھر کو
نیزے میں پرویا گیا شبیر کے سر کو
اپنوں کے گھروں کو ہی جلاتا رہا انسان
انسانیت کا خون بہاتا رہا انسان
جو روز ازل لکھا وہ پیمان کہاں ہے
جو درد تھا انسان کی پہچان کہاں ہے
آتے ہیں نظر مجھ کو بھی یہ مٹی کے پتلے
جو تیرا خلیفہ تھا وہ انسان کہاں ہے
یکم مئی کے حوالے سے لکھی گئی نظم کا پہلا حصہ
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






