نفس
Poet: Sheikh Khurram Asaf Ali By: Khurram Asaf Ali, Osloہم بولیں جھوٹ اب کچھ اس طرح
کبھی سچ بولا کرتے تھے ُاس طرح
عجیب عادت سی ہوگی ہے اب تو ایسی
غفلتوں کے حامل پھر کہیں قسمت ہماری ایسی
قدرت سے شکوہ ہم روز کریں
اپنی کوتاہیوں کو دوسروں کے سر کریں
راتوں کو دیر تک شوروغل کریں
پھر صبح تھکاوٹ کا رونا کریں
اپنی آن کے آگے کچھ نہ دیکھیں
انفرادیت کے بیمار اور کچھ نہ دیکھیں
اجتماعیت کے فروغ کی خاطر ہوتی جمہوریت
سب ہوں برابر مساوآت پہ مشتمل ہوتی جمہوریت
بنیادی حقوق جیسے پانی بجلی روٹی محیا کرنا کام وزیروں کا
بیروزگاری میں بشر کیا کرے ، کیا کام یہاں وزیروں کا
مال بنانے میں لگے ہیں لوگ سارے
ضمیر کا سودا کریں روز لوگ سارے
جب خود ہی نہ طلبگار ہوں گے بہتر زندگی کے
کچھ بھی کر لیں دانشمند ،حالات نہ بدلیں زندگی کے
ہوُحبشی فرنگی یاں مزہبی کوئی فرق نہیں پڑتا
اسلام میں ہے برابری پیشے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
تبدیلی کی باتیں تو یہاں زور و شور سے کریں
پر نفس پہ قابو خرم ! یہاں روز کون کریں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






