میں تیتری رہنے میں خوش ہوں
Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIمیں تیتری رہنے میں خوش ہوں
عمر کی نِصف شب
کلبۂ جاں کے گونگے کواڑوں پہ یہ
کوئی دستک ہُوئی
یا کہ میں نیند میں ڈر گئی
سوچتی ہوں
یہ کیسی محبت ہُوئی
جس کی بنیاد میں خوف کے اتنے پتّھر رکھے ہیں
کہ لگنے سے پہلے
عمارت کے سارے دریچوں کے شیشے لرزنے لگے ہیں
ایسا لگتا ہے یہ خوف
باہر سے بڑھ کے کہیں میرے باطن میں ہے
اُس کی ذہنی وجاہت کی دہشت
اُس کی خوش روئی کی سانس کو روکنے والی ہیبت
پیچھا کرتی ہُوئی آنکھ سے میری بے پردہ وحشت
تو باطن کے ڈر کا لبادہ ہیں
دراصل میں
اُس کو تسلیم کر کے
عمر بھر کی کمائی
اس آزادئی ذہن و جاں کی
گنوانا نہیں چاہتی
اورمجھے یہ خبر ہے
کہ میں اِک دفعہ
ہاتھ اُس کے اگر لگ گئی تو
وہ مکّھی بنا کے مجھے
اپنی دیوارِ خواہش سے تاعمر اس طرح چپکائے رکھے رہے گا
کہ میں
روشنی اور ہوا اورخوشبو کا
ہر ذائقہ اس طرح بُھول جاؤں گی
جیسے کبھی ان سے واقف نہ تھی
سو میں تیتری رہنے میں ہی بہت خوش ہوں
گرچہ یہاں
رزق اورجال کی سازشیں بے پناہ ہیں
مگر
میرے پَر توسلامت رہیں گے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






