میرے لفظ
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiچبھ رہے ہیں دل ودماغ میں جو
سب سوالات تیروخنجر سے
ان سوالات کو سمیٹے ہوئے
اور ان کی سبھی چبھن لے کر
وہ خیالات جن کی سوزش سے
روح تک جسم میں چٹختی ہے
اور سینے میں سر پٹختی ہے
ان خیالات کی جلن لے کر
وسوسے ڈس رہے ہیں جو مجھ کو
جن کی پُھنکار دل کو ڈراتی ہے
جن کا پھن ہے دماغ میں پیوست
اور پکڑ جسم توڑے جاتی ہے
ان کی پھنکار اور پھن لے کر
لفظ جو لب پہ آنہیں سکتے
دل کی حالت دکھا نہیں سکتے
چپ ہیں، کچھ بھی بتا نہیں سکتے
سچ کا چہرہ دکھا نہیں سکتے
نیم جاں لفظوں کا بدن لے کر
زہرآلود ہوگئے ہیں لفظ
زہر میں تو پلا نہیں سکتا
ہوگئے خار میرے پھول سے لفظ
اور میں کانٹے چبھا نہیں سکتا
لفظ ریشم سے سنگ ہوتے ہوئے
اور میں پتھر اٹھا نہیں سکتا
لفظ اور ان کا کڑواپن لے کر
درد کی سب حکایتوں کے ساتھ
اپنی ساری شکایتوں کے ساتھ
جان لیتی اذیتوں کے ساتھ
روح کو کھاتی حالتوں کے ساتھ
اپنے اندر اتر رہا ہوں میں
زہر سے خود کو بھر رہا ہوں میں
آج اعلان کر رہا ہوں میں
یوں تو زندہ دکھائی دوں گا تمھیں
لیکن اے دوست!
مر رہا ہوں میں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






