میرے خدا
Poet: ملک خالد حسین By: ملک خالد حسین, Lahoreمدد گار نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بھی تیرے سوا
رکھ لیتا ہے بھرم تُو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کا میرے خدا
نہیں کوئی آسرا ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں یہاں بھی گیا
اک تیرے ہی کرم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے سنبھال لیا
عزت و ذلت نہیں دیتا ۔ کوئی بھی تیرے سوا
رکھتا ہے تُو سب کی ۔۔۔ شرم و حیا میرے خدا
گناہوں سے کرتا ہے ۔ جب کوئی توبہ استغفار
معاف کر دیتا تُو چاہے ۔۔ جتنا بھی ہو گنہگار
بخشنے والا نہیں ہے ۔۔۔ کوئی بھی تیرے سوا
کر گناہوں سے پاک ۔۔۔۔ ہم سب کو میرے خدا
امیر ہو یا غریب سب کو رزق تُو ہی دیتا ہے
پتھروں کے اندر مخلوق کو بھی کِھلا دیتا ہے
کر نہیں سکتا مشکل ۔۔ حل کوئی تیرے سوا
کر دو مشکلیں حل ۔۔۔ ہماری بھی میرے خدا
آنے والی مصیبتوں سے ۔۔ لے ہم سب کو بچا
غم اور پریشانیوں سے ۔ بھی ہمیں نجات دلا
مسیحا نہیں ہے ہمارا بھی کوئی تیرے سوا
سنتا ہے تُو ہی سب کی دعائیں میرے خدا
کرتا ہے خالد تیرے سامنے ہاتھ اٹھا کر التجا
میری تحریر پڑھنے والوں پہ رحم و کرم فرما
کرسکتا نہیں مرادیں پوری کوئی تیرے سوا
نیک خواہشیں سب کی پوری کر میرے خدا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






