مِٹھڑی (ہمارا گاؤں)۔
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaجہاں پر بھی بسیرا ہو ہمارا، یاد مِٹھڑی ہے
ثمر قند و بُخارا ہے، مُراد آباد مِٹھڑی ہے
گُزارا ہے جہاں بچپن، لڑکپن کا زمانہ بھی
رکھا جِس نے مِرے دِل کو ہمیشہ شاد مِٹھڑی ہے
تعصُّب سے ہیں بالا تر یہاں کے لوگ سِیدھے سے
خُدا ترسی یہاں کا شیوہ ہے شہزاد مِٹھڑی ہے
نواب اسلم ہمارے فلسفہ میں بات کرتے ہیں
اِنہی کی دُور بِینی کے سبب آزاد مِٹھڑی ہے
یہاں پر مُختلف اقوام کے بھی لوگ بستے ہیں
مگر رنگ و نسل کی، قوم کی اضداد مِٹھڑی ہے
بلوچی بھی، برہوی بھی، یہاں سِندھی سِراکی بھی
سبھی قد والے رہتے ہیں جبھی شمشاد مِٹھڑی ہے
یہاں سادات بستے ہیں سو فیضِ عام ہے لوگو
رفیقِ آل احمدﷺ ہے جبھی تو شاد مِٹھڑی ہے
یہاں ملّا قبِیلہ خیل کا بازو بنا ہر دم
پِرانا گاؤں دمڑی تھا نئی اِیجاد مِٹھڑی ہے
کِسی کو کیا جسارت ہے فرِید اور تاج آگے ہیں
اِنہی کی کاوِشوں کا ہی صِلہ ہے، داد مِٹھڑی ہے
برابر سِلسِلہ تعلِیم کا ہے اِک گھرانے سے
گھرانہ وہ ہے قاضی کا، اگر اسناد مِٹھڑی ہے
بڑا کِردار قاضی یار کا تعلِیم میں دیکھا
یہاں پر (باپ سے) اُستاد ہیں، اولاد مِٹھڑی ہے
یہاں حسرتؔ تخلّص کے بڑے مشہُور شاعِر ہیں
کبھی اِن کے لِیے شِیریںؔ، کبھی فرہادؔ مِٹھڑی ہے
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






