مسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: زوہیب شاہ, Karachiمسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
دل کسی کا مگر نہ دکھا کر چلو
جس کی خوشبو جہاں میں ہمیشہ رہے
پھول ایسا چمن میں کھلا کر چلو
جس سے سارے جہاں میں اجالا رہے
دیپ ایسا کوئی اک جلا کر چلو
کامیابی فقط رب کے ہاتھوں میں ہے
تم وسیلوں کو بس آزما کر چلو
بند آنکھوں سے تم پر کریں سب یقیں
اپنا ایسا بھروسہ بنا کر چلو
زندگی خوبصورت لگے گی تمھیں
رنجشیں اپنے دل سے بھلا کر چلو
سرحدیں نفرتوں کی مٹا کر سبھی
راستے پریم کے تم بنا کر چلو
ہو گئے ہیں مقلد جو شیطان کے
ان سے راہیں تم اپنی جدا کر چلو
جس نے ہر شے سے دیپک نوازا تمھیں
راہ میں سب اسی کی لٹا کر چلو
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






