محبت اک حقیقت ہے
Poet: بنت لیاقت By: بنت لیاقت, Sargodhaمیں روٹھی تھی محبت سے
کہ محبت کچھ نہیں ہوتی
محبت تو دکھاوا ہے...
کہ محبت جھوٹ ہے لوگو
محبت صرف اک کہانی ہے
جو کتابوں میں ہی ملتی ہے
محبت اک افسانہ ہے....
مگر جب سے یہ جانا ہے کہ
حقیقت اور ہوتی ہے
دکھاوا اور ہوتا ہے
اور محبت اور ہوتی ہے
کہ اک انجان کو رستہ
بتایا جا بھی سکتا ہے
مگر اسے منزل تک
پہنچانا ہی محبت ہے
کہ اک غریب کی بچوں کو
دعا دی جا بھی سکتی ہے
مگر انہیں بھی کچھ اچھا
کھلانا ہی محبت ہے
کہ اک مزدور کو کو مزدوری
دے دینا بھی کافی ہے
مگر اس سے رویہ اپنا
اچھا رکھنا ہی محبت ہے
کہ مشکل وقت میں لوگوں کا
ساتھ دینا بھی کافی ہے
مگر اسی وقت انکو خوشی کی کچھ
وجہ دینا ہی محبت ہے
کسی کے سخت لفظوں پر
خاموش رہنا ہی کافی ہے
مگر اچھے رویے سے اسی کو
سمجھا دینا ہی محبت ہے
کہ بوڑھے ماں باپ سے اپنے
اچھے بول بولنا بھی کافی ہے
مگر انکی بے ترتیب باتوں کو
توجہ سے سن لینا ہی محبت ہے
کہ الجھے ہوۓ اک دوست کو اپنے
حوصلہ دینا بھی کافی ہے
مگر اس کی اس الجھن کو
سلجھا دینا ہی محبت ہے
کہ اپنے دوستوں کے ساتھ
اچھا وقت گزارنا بھی کافی ہے
مگر ان کی اللہ سے دوستی
کروا دینا ہی محبت ہے
ہاں یہ ہی محبت ہے!!!!!!
محبت اک حقیقت ہے
محبت اک حقیقت ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






