مجھے نیند نہیں آتی
Poet: Maria Rehmani By: Maria Rehmani, Kharianتیرے سنگ جو بیت گئے دن
کیا خوب تھے جاناں
معلوم ہے مجھ کو
وقت ہجر بھی لازم ہے
لیکن
تجھے کھو دینے کا حوصلہ نہیں قائم
اٹل ہے یہ
کچھ دنوں کچھ لمحوں میں بچھڑ جائیّں ہم
محبتوں کا کسے موڑ پہ مل جانا
بہت ہی دیر تک ساتھ رہنا
چلتے چلتے بہت ہی خاموشی سے کھو جانا
یہ زندگی کی ریت پرانی ہے
میرے پہلو میں تیرا سونا
وہ تیرے ہاتھوں کو بہت ہی زور سے تھامے ہوّئے رکھنا
سنو
مجھے بچھڑ جانے کا ڈر سا رہتا ہے
معلوم ہے مجھ کو
ہم میں شام ہجر آنے والی ہے
اور اسی ہجر کے ڈر سے
مجھے اب نیند نہیں آتی
تجھے کھو دینے کے ڈر سے
مجھے اب نیند نہیں آتی
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






