مجھے روگ کیا ہے ؟ بتاؤ طبیبو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: نادیہ نور, Karachiمجھے روگ کیا ہے ؟ بتاؤ طبیبو
فقط باندھ کر تم نہ جاؤ طبیبو
مجھے سر پٹخ کے ملے جس سے راحت
کوئی سنگ ایسا دکھاؤ طبیبو
کبھی اس کے خوابوں سے باہر نہ آؤں
مجھے نیند ایسی سلاؤ طبیبو
میں اس کو دوبارہ بچھڑنے نہ دونگا
ذرا شمس الٹا گھماؤ طبیبو
فلک تھرتھراۓ جو اس کو بلاؤں
وہ سنتا نہیں کیوں ؟ بتاؤ طبیبو
جسے پی کے مجھ کو نہ وہ یاد آۓ
دوا کوئی ایسی بناؤ طبیبو
مرے دل پہ میری بھی کچھ دسترس ہو
کوئی ایسا نسخہ بتاؤ طبیبو
بنا کر دکھاؤں تمھیں اس کی صورت ؟
چلو خون میرا بہاؤ طبیبو
اسے ڈھونڈنے میں رکاوٹ بنیں گی
مجھے بیڑیاں نہ لگاؤ طبیبو
فرشتوں کا مجھ کو گماں ہو رہا ہے
ہو تم کون مجھ کو بتاؤ طبیبو
محبت کی طِب سے جو کچھ آشنا ہو
اسے نبض میری دکھاؤ طبیبو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






