مجال کس کی ہے اے ستمگر سنائے جو تجھ کو چار باتیں
Poet: DAAG DELVI By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIمجال کس کی ہے اے ستمگر سنائے جو تجھ کو چار باتیں
بھلا کیا اعتبار تونے، ہزار منہ ہیں ہزار باتیں
رقیب کا ذکر وصل کی شب، پھر اُس پہ تاکید ہے کہ سنئے
تمہیں تو اک داستاں ٹھہری، ہمیں یہ ہیں ناگوار باتیں
اُنہیں نہ کیوں عذر درد ِ سر ہو جب اس طرح کا پیامبر ہو
غضب کیا، عمر بھر کی اُس نے، تمام کیں ایک بار باتیں
جو کیفیت دیکھنی ہے زاہد ، تو چل کے تو دیکھ میکدے میں
بہک بہک کر مزے مزے کی سنائیں گے بادہ خوار باتیں
نگاہیں دشنام دے رہی ہیں، ادائیں پیغام دے رہی ہیں
کبھی نہ بھولیں گے حشر تک ہم، رہیں گی یہ یاد گار باتیں
بہل ہی جائے گا دل ہمارا کہ ہجر کی شب کو رحم کھا کر
تمہاری تصویر بول اُٹھے گی، کرے گی بے اختیار باتیں
ہمارے سر کی قسم نہ کھاؤ ، قسم ہے ہم کو، یقیں نہ ہوگا
تمہارے ناپائیدار وعدے، تمہاری بے اعتبار باتیں
مرے جنازے پہ کیوں وہ آئے کہ اُلٹے طعنے مجھے سُنائے
کہا کئے جو زباں پر آیا ، سُنا کئے سوگوار باتیں
فسانہء درد و غم سُنایا تو بولے وہ جھوٹ بولتا ہے
سنی ہوئی ہے بہت کہانی ، نہ ہم سے ایسی بگھار باتیں
مزا تو اُس وقت جھوٹ سچ کا کُھلے کہ ہے کون راستے پر
خدا کے آگے مری تمہاری اگر ہوں روز شمار باتیں
ابھی سے ہے کچھ اُداس قاصد، ابھی سے ہے بدحواس قاصد
سنبھل سنبھل کر سمجھ سمجھ کر کریگا کیا بیقرار باتیں
تمہاری تحریر میں ہے پہلو ، تمہاری تقریر میں ہے جادو
پھنسے نہ کس طرح دل ہمارا جہاں ہوں یہ پیچ دار باتیں
بری بلا ہے یہ داغ پرفن تم اس کو ہر گز نہ منہ لگانا
وگرنہ ڈھب پر لگا ہی لے گا سُنیں اگر اِس کی چار باتیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






