ماضی کے سمندر میں اتروں تو آنکھ بھر آتی بے
Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabadماضی کے سمندر میں اتروں تو آنکھ بھر آتی بے
حال بھی اب جو دیکھوں تو آنکھ بھر آتی ہے
گزری یادوں کی آ گ میرے دل پے یوں برستی ھے
جلتے ہوئے غم میں جو سلگھوں تو آنکھ بھر آتی ہے
کچھ کہنا تو دور لکھنے کی بھی ھمت نہیں شاید
شاعری میں لفظ کوئی لکھوں تو آنکھ بھر آتی بے
گزرے ہوئے پل نا جانے کیوں چھوڑتے نہیں بیچھا
خط جو پرانے پڑھوں تو آنکھ بھر آتی ہے
مصروف رہتا ہوں میں صبح سے شام تک مگر جونہی
قدم چوکھٹ پے رکھوں تو آنکھ بھر آتی ہے
ھر چہرے پے لکھی یہاں کوئی نا کوئی داستاں ہے
کوئی چہرہ جو میں پڑھوں تو آنکھ بھر آتی ہے
کیوں ہو گیا ہوں حساس میں جانے کیوں آخر
بات کروں شروع کوئی تو آنکھ بھر آتی ہے
ان گلیوں سے میرا تعلق اب راہگیر سا ہے
مگر جب بھی وہاں سے گزروں تو آنکھ بھر آتی ہے
ہزاروں موسم آتے ہیں میرے دل کی دنیا میں تنویر
ویسے میں جب بھی ہنسوں تو آنکھ بھر آتی ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






