لمحہ
Poet: پلک محروم By: PALAK MAHROOM, gopalganjﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﮯ ﮐﺒﻬﯽ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﺠﻬﮯ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﻬﻮ ﯾﺎ ﻧﻔﺮﺕ ﺳﮯ
ﯾﺎ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺗﻢ ﻧﮩﻼﺩﻭ
ﺁﺋﻮﮞ ﮔﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﺮ ﮨﻮﮐﮯ ﺟﺪﺍ
ﺗﻢ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﺑﮩﻮﺍ ﺩﻭ
ﺗﻢ ﺟﺎﻧﻮ ﻣﺠﻬﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﻮ
ﺗﻢ ﻣﺎﻧﻮ ﻣﺠﻬﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻮ
ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺪ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﻬﻦ ﺑﻬﺮﮐﯽ
ﭘﮩﭽﺎﻧﻮﮞ ﻣﺠﻬﮯ ﺗﻢ ﭘﮩﭽﺎﻧﻮ
ﺁﺉ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻬﻦ ﺑﻬﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ
ﭘﺮ ﯾﺎﺩ ﺑﮩﺮ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﯽ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ
ﺍﮎ ﺩﺍﻍ ﺳﻔﺮ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﯽ
ﭘﮕﮭﻠﻮ ﮔﮯ ﺳﺎﻭﻥ ﺑﻦ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺍﯾﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﯽ
ﺩﯾﮑﻬﻮ ﻧﮧ ﻣﺠﻬﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮﮞ
ﺳﻮﭼﻮ ﻧﮧ ﻣﺠﻬﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﮯ ﮐﺒﻬﯽ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﺠﻬﮯ
ﮐﭽﮫ ﮐﻬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﺎ
ﺟﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﻬﺎ ﺳﻮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺏ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﭽﻬﺘﺎﻧﮯ ﮐﺎ
ﺍﭨﻬﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﻪ ﭼﻠﻮ
ﮨﺎﺗﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﮐﮯ ﮨﺎﺗﻪ ﭼﻠﻮ
ﭘﺎﺟﺎﺋﻮ ﻓﮩﻢ ﺳﻨﮓ ﺩﯾﺪ ﻣﯿﺮﯼ
ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻻﻧﮕﻪ ﭼﻠﻮ
ﭘﮩﭽﺎﻧﻮ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻨﻮ
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻨﻮ ﻭﮦ ﺷﺎﻥ ﺑﻨﻮ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﻮ ﻧﮧ ﻣﻤﮑﻦ
ﺗﻢ ﭼﻨﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﻤﺎﻥ ﺑﻨﻮ
ﺩﯾﮑﻬﻮ ! ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﻞ ﮐﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﻧﺪﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﺮ ﺍﭨﻬﮯ
ﻭﯾﺴﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﯿﻤﺖ ﺟﻠﮑﮯ
پلک محروم
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






