فُرصَت مِلے بھی تو، اب بات نہیں کرنی،

Poet: Waqas Khalid shamas By: Waqas khalid shamas, Rawalpindi

فُرصَت مِلے بھی تو، اب بات نہیں کرنی،
یَک طَرَفہ مُحَبّت کی، اب خَیرات نہیں کرنی۔

تُم چاہو تو، اب یہ اَذِیَّت خَتْم ہی سَمَجھو،
تیرے اِنتِظار میں، اب کوئی رات نہیں کرنی۔

سارے جَھگڑے ہی، یہ میری وَجہ سے تھے،
یہ رَسمِ چاہت بھی، تیرے ساتھ نہیں کرنی۔

اب کی بار تَوبَہ ، پھر کبھی بُھول کر بھی،
دِل لگانے کی، کوئی بھی وَاردات نہیں کرنی۔

چاند تاروں کو توڑنے کی باتیں کیا کرتا تھا،
خوابوں میں بھی خَراب، اب کائِنات نہیں کرنی۔

یَقیناً میں مِٹا ہی دوں گا، سب دِل و دِماغ سے،
زِندگی میں مَزید پیدا، کوئی مُشکِلات نہیں کرنی۔

نہ کوئی شِکوہ رہے گا، نہ کوئی سوال باقی،
مَحفِلوں میں تیرے نام کی سَماعت نہیں کرنی۔

میں نے بَخش دِیا، تُو بھی بَخش دے سَب،
قِیامت میں بھی، تُجھ سے مُلاقات نہیں کرنی۔

Rate it:
Views: 0
26 Sep, 2026
More Sad Poetry