فساد کے بعد
Poet: Javed Akhtar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIگہرا سَنّاٹا ہے
کچھ مکانوں سے خاموش اُٹھتا ہوا
گاڑھا کالا دُھواں
مَیل دل میں لئے
ہر طرف دُور تک پھیلتا جاتا ہے
گہرا سَناّٹا ہے
لاش کی طرح بے جان ہے راستا
ایک ٹُوٹا ہوا ٹِھیلا
اُلٹا پڑا
اپنے پہئے ہَوا میں اُٹھائے ہوئے
آسمانوں کو حیرت سے تَکتا ہے
جیسے کہ جو بھی ہوا
اس کا اب تک یقیں اس کو آیا نہیں
گہرا سَنّاٹا ہے
اک اُجڑی دُکاں
چیخ کے بعد منہ
جو کُھلا کا کُھلا رہ گیا
اپنے ٹُوٹے کِواڑوں سے وہ
دُور تک پھیلے
چُوڑی کے ٹکڑوں کو
حسرت زدہ نظروں سے دیکھتی ہے
کہ کَل تک یہی شیشے
اس پوپلے منہ میں
سو رنگ کے دانت تھے
گہرا سَنّاٹا ہے
گہرے سَنّاٹے نے اپنے منظر سے یوں بات کی
سُن لے اُجڑی دُکاں
اَے سلگتے مکاں
ٹُوٹے ٹھیلے
تمہیں بس نہیں ہو اَکیلے
یہاں اور بھی ہیں
جو غارت ہوئے ہیں
ہم ان کا بھی ماتم کریں گے
مگر پہلے ان کو تو رو لیں
کہ جو لُوٹنے آئے تھے
اور خود لُٹ گئے
کیا لُٹا
اس کی ان کو خبر ہی نہیں
کم نظر ہیں
کہ صدیوں کی تہذیب پر
ان بِچاروں کی کوئی نظر ہی نہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






