غریبوں کے لیے چولھا جلانا ہو گیا مشکل
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: غلام مصطفیٰ , Lahoreغریبوں کے لیے چولھا جلانا ہو گیا مشکل
یہاں دو وقت کی روٹی کمانا ہو گیا مشکل
یہاں پھر لوگ پتوں سے چھپائیں گے بدن اپنا
یہاں کپڑے سے پیراہن بنانا ہو گیا مشکل
یہاں اینٹوں کے مسکن کا بھلا کیا خواب دیکھیں ہم
یہاں میدان میں خیمہ لگانا ہو گیا مشکل
غلاموں کی نئی کھیپیں یہاں تیار ہوں گی پھر
کہ اب نوخیز نسلوں کو پڑھانا ہو گیا مشکل
وطن کو چھوڑ کر اپنے وہ کیوں پردیس نہ جائیں
یہاں جن کے لیے جانیں بچانا ہو گیا مشکل
یہاں انصاف ملنے کی بھلا امید کیا ہو گی
یہاں چوروں پہ انگلی بھی اٹھانا ہو گیا مشکل
فریب و کِذب کی عینک لگی ہے جن کی آنکھوں پر
انہیں اب آئینہ سچ کا دکھانا ہو گیا مشکل
نہ جانے کون سے مذہب کے جابر حکمراں یہ ہیں
خدا کے نام سے جن کو ڈرانا ہو گیا مشکل
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






