غالب دے اٹھ شعر
Poet: Ghalib By: maqsood hasni, kasur
1
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
غالب
دنیا وچ
ود سوود شاعر پئے
سننے آں
غالب دی گل ای ہور اے
2
وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
کیجے ہمارے ساتھ‘ عداوت ہی کیوں نہ ہو
غالب
ایہ کل پلے بنی اے
دشمنی ہووے یاں متری
یاداں وچ رکھ دی اے
3
زندگی جب اپنی اس شکل سے گزری‘ غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
غالب
کھسماں آلے ہو کے
یہاتی کجھ ایداں لنگی
یاد ای کراں گے
غالب
4
ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
ہاں‘ منہ سے مگر باہءدوشنبہ کی بو آئے
غالب
بو سنگدیاں ای
دونویں نٹھ پجھ جان گے
پہلے توڑ دی پی کے
اسیں قوریں ڈیرے لاءے نے
5
فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسد
جفا میں اس کی ہے انداز کارفرمائی کا
غالب
سمان نوں ویکھ کے
یاد اونہدی آ جاندی اے
دونویں اکو جئے نے
آفتاں ڈھاون وچ
6
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں
غالب
فرشتے
سجدے توں ناں کیتی
دھکے مار
درباروں باہر کیتا
ویکھ کے سانوں
چتھراں دی چھاں تھلے
خورے چپ کیوں وٹی بیٹھا
7
ظلمت کدے میں مرے شب غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیل سحر‘ سو خموش ہے
غالب
میری نھیر کوٹھری وچ
غماں نیں ہنھیر مچایا اے
اک دیوا سی
چانن دا گواہ بنیا
اوہ وی
اکھاں توں محروم ہویا
8
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے
غالب
شعراں دے مضمون سارے
اتوں لہندے نے
میرے قلم دی چیک
جبریل دی واز اے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






