عشق دی نوّیوں نوّیں بہار
Poet: Baba Bulley Shah By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIعشق دی نوّیوں نوّیں بہار
جاں میں سبق عشق دا پڑھیا
مسجد کولوں جیوڑا ڈریا
ڈیرے جا ٹھاکر دے وڑیا
جتھے وجدے ناد ہزار
عشق دی نوّیوں نوّیں بہار
جاں میں رمز عشق دی پائی
مینا طوطا مار گوائی
اندر باہر ہوئی صفائی
جِت ول ویکھاں یارو یار
عشق دی نوّیوں نوّیں بہار
ہیر رانجھے دے ہو گئے میلے
بھُلّی ہیر ڈھوڈیندی بیلے
رانجھا یار بُکّل وِچ کھیلے
مینوں سدھ رہی نہ سار
عشق دی نوّیوں نوّیں بہار
وید قرآناں پڑھ پڑھ تھکے
سجدے کردیاں گھس گئے متھے
نہ رب تیرتھ نہ رب مکّے
جس پایا تس نور انوار
عشق دی نوّیوں نوّیں بہار
پُھوک مصلّٰی بھن سٹ لوٹا
نہ پھڑ تسبیح عاصا سوٹا
عاشق کیہندے دے دے ہوکا
ترک حلالوں کھا مردار
عشق دی نوّیوں نوّیں بہار
عمر گوائی وچ مسیتی
اندر بھریا نال پلیتی
کدے نماز توحید نہ نیتی
ہن کی کرنائیں شور پُکار
عشق دی نوّیوں نوّیں بہار
عشق بُھلایا سجدہ تیرا
ہنڑ کیوں اینویں پاویں جھیڑا
بلھا ہوندا چپ بتیرا
عشق کریندا مارو مار
عشق دی نوّیوں نوّیں بہار
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






