زندگی
Poet: نا ئلہ رانی By: Naila Rani, Karachiتجھ سے میرا اک سوال ہے زندگی۔۔۔۔؟
کیوں مقدر تیرا آخر زوال ہے زندگی۔۔۔؟
مانا کہ موت تجھ پہ غالب ہے ازل سے
مگر تو بھی تو خدا کا الہام ہے زندگی
وہ جو مٹ گئے تیری بقا کے لیئے
میرا بھی اک ایسا خواب ہے زندگی
پھولوں کی سیج ہے نہ کانٹوں کا بستر
اب میں سمجھی کہ خدا کا خیال ہے زندگی
فقط پیار ہے نہ تو نفرت کا گھر ہے
تجھے پیدا کرنا توازن ہر حال ہے زندگی
یو نہی بیٹھے بیٹھے جو دیکھا پرندوں کو اڑتے
رشک آ گیا مجھے بھی کہ کتنی آزاد ہے زندگی
میری قسمت میں بھی لکھ دے کوئ مقصدوامنگ
لگتا ہے مجھ کو کہ میری بیکار ہے زندگی
جینا ہو جیسے اک عذاب کی صورت
اور مرنا تو بہت ہی دشوار ہے زندگی
کہنا میرا تو بس یہ ہی ہے اے ساقی
اک رقت انگیز منظر کبھی شراب ہے زندگی
ادب سے جھک جا اس ہستی کے آگے نا ئلہ
کیونکہ رب کی نازل کردہ کتاب ہے زندگی
لکھی جو میں نے تجھ پہ اک ادنیٰ سی غزل
اس غزل میں ہی تیرا جواب ہے زندگی
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں







