زندگی کی کسک

Poet: پلک محروم By: PALAK MAHROOM, gopalganj,india

ﻣﺤﺮﻭﻣﯿﺎﮞ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﯽ ﺳﺪﺍ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﮯ
ﻣﮑﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯﮐﭽﮫ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﻭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﮯ

ﺩﻭﺭ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻬﺎ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺭﺥ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ
ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﻠﮏ ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﮐﮯﭼﻠﺘﮯ

ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻣﺠﮫ ﭘﮯ ﮨﻨﺴﮯ ﮔﺎ
ﺑﺨﺸﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﻏﺎﺕ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﮯ

ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﺟﻮﺧﻮﺵ ﺭﻭ ﻭ ﺗﺒﺴﻢ
ﺳﺎﺭﮮ ﺳﻤﭧ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﺬﻻﺕ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﮯ

ﺳﻦ ﻧﺎﮨﮯﻣﺠﮭﮯﺻﺮﻑ ﺍﺏ ﺳﻦ ﻧﺎ ﮨﮯﺳﺒﻬﻮﮞ ﮐﻮ
ﺗﺎﺋﺐ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﮯ

ﻟﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﻬﺮﺳﮯﺍﺱ ﺍﺟﮍﮮﭼﻤﻦ ﻣﯿﮟ
ﮐﺎﻭﺵ ﺑﻬﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭ ﺗﺼﺮﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﮯ

ﺷﺮﻣﺴﺎﺭ ﺳﺎ ﺟﯿﻮﻥ ﺟﯿﺌﮯ ﮐﺐ ﺗﻠﮏ ﮐﺊ
ﭘﺮ ﺟﯿﻨﺎ ﮨﯽ ﭘﮍ ﺗﺎ ﮨﮯ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﮯ

ﺍﺏ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮐﮩﺎ ﺩﻭﺭ ﺍﺱ ﺣﻼﺕ ﺳﮯ ﺍﮮ ﭘﻠﮏ
ﺍﻟﺠﻬﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﺣﻼﺕ ﮐﮯ ﭼﻠﺘﮯ

Rate it:
Views: 620
12 Oct, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL