رفیقِ جاں کہتے ہیں
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonہوے دوست وہ جن کے ہم انہیں رقیب جاں کتے ہیں
زہے نصیب وہ انہیں یوں حبیب جاں کہتے ہیں
من جلوں کی محفل میں نظر آی نہ ہمیں کہیں
کوی ایسی صورت جسے وہ خوب رو کہتے ہیں
یوں تو یقیں ہے ہمیں ہم بھی کسی سے کم نہیں
مگر شومئ قسمت وہ اسے نظر فریب کہتے ہیں
مدت سےرہے ہم یونہی منتظراور رہےوہ نا آشنا
کیا ا یسے بھی یوں محبوب جاں رہتے ہیں ؟
بڑے نصیب والے ہیں یہ اپنےرقیب جاں بھی
رفیق اپنے ہر دم ان سے قریب رہتے ہیں
مت پوچھیۓ کیا گزرتی ہے جاں پر اپنی
جب مورکھ کو ادا سے وہ جانِ جاں کہتے ہیں
میرے حال زار پر نہ جایۓ گو دیوانگی سہی
ایسےجامہ زیب سےبہتر ہم جامہ زیرتورہتےہیں
ویسے ہیں اپنے بھی ایسے خیر خواہ
جو ہم کو ہی رفیقِ جاں کہتے ہیں
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






