د عا
Poet: naila rani By: naila rani, karachiیا رب پاس اپنے تو مجھ کو بلا کیوں نہیں لیتا
سات پر دوں میں چھپا ہے مجھ کو بھی چھپا کیوں نہی لیتا
تیر ے اک کن فیکن سے ملتی ہے فنا کو بقا پل بھر میں
تو اس د نیا کو پھر سے مٹا کر بنا کیوں نہیں دیتا
یاں دجل کا راج ہے اور چھا ئی ہے د جل سحر چار سو
تو ان مر جھا ئے ہو ئے پھو لوں کو شفا کیوں نہیں دیتا
سل مسلم کے آئنو ں پہ د ھول جمی ہے تو دھول کو یا رب
ا پنے کرم و عنا ئیت کی با رش سے د ھلا کیوں نہیں دیتا
ان پہا ڑوں کو غرور ہے ا پنی ید بیضا پر اس قدر
تو ا نکی جاہ و طا قت کو مٹی میں ملا کیوں نہیں د یتا
عرش معلیٰ سے ا تر یں ملا ئک بغدادو غزو قا بل پر یا رب
تو ان صفاک د ر ندوں کو صفا ہستی سے مٹا کیوں نہیں د یتا
اب تو د یکھے جا تے نہیں کفار کے جورو ستم یا رب
تو مجھے میری بے حسی کی بلآخر سزا کیوں نہیں دیتا
یا رب پاس اپنے تو مجھ کو بلا کیوں نہیں لیتا
سات پر دوں میں چھپا ہے مجھ کو بھی چھپا کیوں نہی لیتا
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






