دین مصطفیٰ
Poet: محمدصدیق پرہار By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahنعت سنتارہوں نعت سناتارہوں ذکرسرکارمیں زندگی گزرتی رہے
سجاتے رہیں ہم سرکارکی محفلیں آنے والوں کی قسمت سنورتی رہے
میرامحبوب رب کامحبوب ہے دیداربھی مصطفی کامطلوب ہے
بیٹھے رہیں مسجدنبوی میں ہم گنبدخضریٰ پہ نظرپڑتی رہے
ہوجائیں جب کسی سے خطائیں سرورکونین کے پاس چلے آئیں
رب چاہتاہے امت مصطفی کی درمحبوب پرقسمت سنورتی رہے
سب سے بلندشان رسول ہے رب تعالیٰ ثناء خوان رسول ہے
پڑھتی رہے گی نعت رسول وہ جوزبان تلاوت قرآن کرتی رہے
محفل میلادمصطفی کی منایاکروگھر،گلیاں،بازاربھی سجایاکرو
خوش ہوجائیں تم پرنبی رحمت بھی رب کی برستی رہے
جس پہ چاہیں نگاہ کرم ڈالیں جسے چاہیں اپنے پاس بلالیں
رہے گنبدخضریٰ غلاموں کے سامنے ہرآنکھ یادمیں مچلتی رہے۔
عقل والے یہ بات نہیں مانتے منزلیں عشق کی عشاق ہیں جانتے
زباں پہ ذکررسول رہے جاری دلوں میں آتش عشق بڑھکتی رہے
چاہتے ہوتم رحمتوں کے سائے رزق میں کبھی کمی نہ آئے
خرچ کرتے رہومیلادمحبوب پرگھرمیں تمہارے برکت اترتی رہے
دل میں بساؤالفت رسول یوں پسندہوتمہیں نسبت رسول یوں
محبت ہورسول سے توایسے دنیاسرکارکادیوانہ سمجھتی رہے
ثابت قدم رہودین مصطفی پرہوچاہے دنیاادھرسے ادھر
دامن سیرت سرورعالم تھامے رہوچاہے ساری دنیاہی بدلتی رہے
صدیق ؔ ناتواں کی ہے یہ دعاجلوہ کریں خواب میں محبوب خدا
دیدارمصطفی کابھی ہوتارہے دل میں طلب اوربڑھتی رہے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






