دیس بدیس

Poet: farah ejaz By: farah ejaz, dearborn, mi USA

جانے انجانے چہرے یہاں
اجنبی بیگانے سبھی مگر اپنے کہاں
بدیس میں رہ کر یاد ستاتی ہے
دیس کی اپنے یاد بہت آتی ہے
ماں باپ بھائی اور اک چھوٹی سی بہنا میری
سات سمندر پار میرے پیارے رشتے سبھی
روٹھنا منانا رونا ہنسنا تھا جن کے سنگ
غم اور خوشی کے یہ سارے رنگ
میری زندگی کا کبھی حصہ رہے
آج کیوں یادٍ ماضی کا حصہ بنے
دل چاہتا ہے لوٹ جائوں وہیں
توڑ دوں ساری بیڑیاں اور اُڑ جاؤں ابھی
پر لپٹ جاتیں ہیں ننی خواہشیں کسی کی
اسی فرض کو پورا کرنا ہے ابھی
سال پر سال بیت تے جارہے ہیں
میرے اپنے مجھے بھلا کر خوشی کے گیت گا رہے ہیں
ڈولرز کے ترازو میں تُلیں ساری محبتیں میری
حرص نے روند دیں ساری آرزوئیں میری
ایسا لگتا ہے دیکھا تھا اک خواب حسیں
تعبیر جس کی اب کوئی نہیں

 

Rate it:
Views: 500
16 Jun, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL