ديكھ بابل تيرے آنگن كی چڑياں اكيلی روتی ہيں
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreبابل تيرے آنگن ميں معصوم سی چڑياں رہتی تھيں
جنھيں وقت كے پروں نے ايک ايک كر كے اڑايا تھا
بہت سنبھال كر ، چھپا كر تو نے ہم كو پالا تھا
زمانے كا كوئی شكاری ہمارے پاس نہ آنے پايا تھا
ماں باپ كے پاس ہم پريوں كی جيسی تھيں
انھوں نے اپنے خون پسينے سے ہم كو كھلايا تھا
پيار كا ہميں جہاں ملے خوشيوں كی بہار ملے
ايک ايک كر كے بابل تو نے ڈولی ميں بٹھايا تھا
تكليف ميں دونوں ہمارے لئے تڑپتے تھے
كسی بھی كمی كا احساس ہميں نہ دلايا تھا
كبھی آپ دونوں كی ياد نہ آئے يہی چاہا تھا
تيری بانہوں كے جھولے ميں اپنا بچپن بتايا تھا
ماں تو نے خود كو مٹا كر ہم كو بنايا تھا
اپنے ہاتھوں سے اپنا آشيانہ سجايا تھا
)مگر ديكھ بابل آج تيرے آنگن كی چڑياں.. اپنے اپنے دكھوں ميں اكيلی روتی ہيں.. دكھ تكليف ميں روتی ہيں تو كوئی ان كے ساتھ نہيں روتا.. وہ اكيلی ہی تكليفوں ميں خود سے لڑتی ہيں..
كوئی نہيں بابل جو ہمارے آنسو پونچھ لے آ كر... ماں رونے كو تيری گود چاہئے ہميں.. بابل رونے كو تيرا كندھا ، سر پر تيرا ہاتھ چاہئيے ہميں..ديكھ بابل تيرے آنگن كی چڑياں اكيلی روتی ہيں..
بہت اكيلی ہوتی ہيں..( ;
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






