دو لاین والی شاعری
Poet: M.Masood By: M.Masood, Nottingham(81)
کسی روز میری بہت یاد آۓ گی
مگر اُس دن بہت دیر ہو جاۓ گی
(82)
دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
زندگی میری عبادت کے سوا کچھ بھی نہیں
(83)
جی تو چاہتا ہے کہ مر جائیں تیری خاطر
پر ڈر لگتا پھر تو کسی اور کا نہ ہو جاۓ
(84)
وٹ جاۓ جو بھرم دل کا تو پھر آنکھوں سے
بوندیں چہرے پہ لہو کی بھی بکھرتی ہیں کبھی
(85)
بہت سے زخم ہیں دل میں مگر اِک زخم ایسا ہے جل اُٹھتا ہے راتوں میں جو لَو دیتا ہے بارش میں
(86)
ساتھ دینا ہے تو دے چھوڑ کے جانا ہے تو جا
تو اضافہ تو نہ کر میری پریشانیوں میں
(87)
قسمت ساتھ نہ دے تو محبت نفرت میں بدل جاتی ہے
اکثر کانٹے لگنے پر لوگ پھول کو پھینک دیتے ہیں
(88)
ہمیں تو اب بھی وہ گزرا زمانہ یاد آتا ہے
تمہیں بھی کیا کبھی کوئی دیوانہ یاد آتا ہے
(89)
وہ راستے میں مل جائے اتفاق سے کہیں
مجھے یہ شوق مسلسل سفر میں رہتا ہے
(90)
بیان کر دیں جو ٹوٹے ہوئے دِل کی حالت
یقین مانئے الفاظ کی رگیں پھٹ جائے
(91)
کوئی تَعْوِیذ ہو رد بلا كا
میرے پیچھے محبت پڑ گئی ہے
(92)
اسے یقین ہی نہیں ہے کے میں نہیں اس کا
وہ میرے نام کے اب بھی دیئے جلاتی ہے
(93)
بچھڑتے ہوۓ تم سے جو وعدہ کیا تھا میں نے
وہی وعدہ نھبانے کے لیے تو جی رہا ہوں میں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






