دوستی
Poet: nasir kazmi By: GURYA, karachi
آنکھوں آنکھوں میں یہ ان سے رابطہ اچھا لگا
اس طرح سے گفتگو کا سلسلہ اچھا لگا
آنکھ میں آنسو لبوں پر سسکیاں اور دل میں غم
مجھ کو پھر اے دوست تیرا روٹھنا اچھا لگا
یہ بھی اچھا ہے نبھائی غیر سے اس نے وفا
بے وفائی میں بھی مجھ کو بے وفا اچھا لگا
دور تک مجھ کو ادا اسکی نشہ دیتی رہی
وقت رخصت اس کا مڑ کے دیکھنا اچھا لگا
اس نے ٹھکرایا تو سارے دوست بیگانے ہوئے
ہم کو اپنی موت کا پھر آسرا اچھا لگا
اپنے آنچل پر سجاتے وہ رہے رات بھر
میرے اشکوں کا رواں یہ سلسلہ اچھا لگا
وہ کسی کی یاد میں سوئے نہیں رات بھر
نیند سی بوجھل سی آنکھوں میں نشہ اچھا لگا
مجھ کو ہر ٹکڑے میں ناصر وہ نظر آنے لگے
ٹوٹ کر مجھ کو جب ہی تو آئینہ اچھا لگا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL








