دوستی
Poet: منیب رضا By: منیب رضا, KARACHIنومبر کا جانا دسمبر کا آنا
ہوا یاِد ماضی کا پھر آنا جانا
وہ ماضی کی یادوں کا خود کا سنانا
تھا کتنا سہانا وہ منظر پرانا
مجھے یاد آتا ہے پچھال زمانہ
وہ ملنے کا کرتے تھے ہم سب بہانا
وہ ملکر تھا یاروں کا دعوت اُڑانا
سبھی دوستوں کا تھا محفل سجانا
وہ روٹھے ہوئے کو تھا ہنس کر منانا
سبھی دوستوں کا عجب تھا یارانہ
سبھی چل دیے ہیں کمانے کو دانہ
نہ سوجھا کسی کو بھی یاری نبھانا
دلوں کے چمن میں بہاروں کا ِکھلنا
ہوا باغ بُلبُل خزاں میں بدلنا
رہا نہ کوئی یار بیلی دیوانہ
بچا بس م ری یادوں کا یہ ترانہ
منیب ان کی یادوں کا اب چھوڑ گانا
گئے چھوڑ کر جو انہیں کیا بالنا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






