دل کے حوالوں میں یہاں
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHIجس نے رکھا ہے تمہیں دل کے حوالوں میں یہاں
زندگی اس نے گزاری ہے عذابوں میں یہاں
جانے کب آئے قضاء موت کا ساغر لے کر
غرق کرتا رہا میں خود کو شرابوں میں یہاں
مانگنے والے نے مانگا ہے محبت کا حساب
کیا مجھے پایا ادھوار ہے وفاؤں میں یہاں
اتنا ناراض نہ ہو تیری محبت کی قسم
میں سوچا ہے فقط تجھ کو خیالوں میں یہاں
سب کو جلوؤں کی تجلی کے اجالے بخشے
میری باری پہ ہی آیا تھا نقابوں میں یہاں
وہ میرا نقش مٹانے پہ بضد ہے لیکن
میں تو آؤنگا نظر اسکو خوابوں میں یہاں
گھر کا ٹوٹا ہوا دروازہ کھلا رہنے دو
کون آئیگا میرے خانہ خرابوں میں یہاں
اسکی رسوائی کے زخموں سے شناسائی ہے
اب نہیں گھر سے نکلتا وہ حجابوں میں یہاں
پڑھنے والوں کی بھی آنکھوں سے ہیں ٹپکے آنسو
کس نے لکھا میرا قصہ ہے کتابوں میں یہاں
جانے کس موڑ پہ وہ میری محبت ڈھونڈے
میں نے چھوڑا ہے اشہر خود کو سرابوں میں یہاں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






