درد کا شہر بساتے ہوئے رو پڑتا ہوں
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہوردَرد کا شَہر بساتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
روز گھر لوٹ کے آتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
جانے کیا سوچ کے لے لیتا ہُوں تازہ گجرے
اور پھر پھینکنے جاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
جسم پہ چاقو سے ہنستے ہُوئے جو لکھا تھا
اَب تو وُہ نام دِکھاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
راہ تکتے ہُوئے دیکھوں جو کسی تنہا کو
جانے کیوں آس دِلاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
لوگ جب روگ کی تفصیل طلب کرتے ہیں
سخت اِک بات چھپاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
گرم تھی چوٹ تبھی لکھ سکا یہ غم کی بیاض
اَب تو اِک شعر سناتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
روز دِل کرتا ہے منہ موڑ لوں میں دُنیا سے
روز میں دِل کو مناتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
اِسمِ لیلیٰ کو فقط اِس لیے رَکھا مخفی
پھُوٹ کر نام بتاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
دُور جاتا ہو کوئی ، یار سبھی کہتے ہیں
صرف میں ہاتھ ہلاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
چند چپ چاپ سی یادوں کا ہے سایہ مجھ پر
قیس بارِش میں نہاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
شہزاد قیس کی کتاب "دِسمبر کے بعد بھی" سے انتخاب
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






