خواب ۔۔۔
Poet: Dr. Riaz Ahmed By: Dr. Riaz Ahmed, Karachi.دفتر سے چھٹی لے کے وہ نکلا تھا گھر سے آج
اِک نئی امنگ کے ساتھ
دونوں میاں بیوی تھے خوش
وہ نہیں تھا خوش
پھول جیسی پیاری سی اکلوتی نشانی
دونوں کے پیار کی
راضی نہیں تھا جائے وہ مدرسے اکیلے
اُن دونوں کے بِنا
خریدنے نکلا تھا اُس کی پہلی کتابیں
وردی مدرسے کی
اور دوسری چیزیں
آدھی تنخواہ لگ گئی خریدنے میں سب
اِس پر بھی خوش تھا وہ
جاتے ہوئے رستے سے مٹھائی خریدے گا
منتظر بیوی اور اپنے بچے کے لئے
تھوڑی سی ہی سہی
سپنے سجائے آنکھوں میں دکان پر کھڑے
وہ دیکھ رہا تھا
پڑھتے ہوئے اُسے
بڑھتے ہوئے اُسے
ہوتے ہوئے جوان
چڑھتے ہوئے ترقی کی اُسے وہ سیڑھیاں
خوشحالیاں گھر کی
سہرے کے اُس کے پھول اور بہو کو چاند سی
قمقمے شادی کے اور پھلجھڑیاں چھوٹتی
ہوا میں چلتی گولیاں شادی کی خوشی میں
ٹخ ، ٹخ ، ٹخ
وہ نیچے گِر پڑا
پھر کچھ نہ سن سکا
بچے کی سب کتابیں اور بستہ لتھڑ گیا
سرخ اُس کے خون سے
اِک منچلا آیا تھا وہ دکان لوٹنے
بجھا کے اِک چراغ کو غریب کے گھر کے
سپنوں سے پھری آنکھوں کو ویران کر گیا
لپٹ گیا اُس کا جسم سفید کفن میں
اور چھا گئی
اماوس کی اُس کے گھر پہ سیاہی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






