حامئی بے کساں ہے تیرا کرم
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City (Punjab-Pakistan)حامئی بے کساں ہے تیرا کرم
ہادئی کج رواں ہے تیرا کرم
سب صحیفوں میں رحمتوں کا نزول
مرسلوں کا بیاں ہے تیرا کرم
بے نواؤں کی تاب گویائی
خواجہ خواجگاں ہے تیرا کرم
تیری توحید کے جو منکر ہیں
ان پہ بھی بے کراں ہے تیرا کرم
رنگ اور خوں کا امتیاز نہیں
ہر مکاں ہر زماں ہے تیرا کرم
قلزم دہر کے تلاطم میں
لنگر اور بادباں ہے تیرا کرم
ایسا طائر کبھی نہ صید بنا
جس جگہ پر فشاں ہے تیرا کرم
حریت فکر ہے میری منزل
میرا دل اور جاں ہے تیرا کرم
میں کہ مسجود ہوں ملائک کا
تسبیح قدسیاں ہے تیرا کرم
تو ہی ملجا ہے تو ہی ماویٰ ہے
میرا تو نردباں ہے تیرا کرم
جب بھی نمرود دیتے ہیں ایذا
حامی بے کساں ہے تیرا کرم
جب بھی مظلوم آہ بھرتے ہیں
کرتا پھر شادماں ہے تیرا کرم
وہی مغضوب پھر ٹھہرتے ہیں
کرتے جو رائیگاں ہیں تیرا کرم
مہ تاباں بنی ہے یہ دھرتی
کس قدر درشاں ہے تیر ا کرم
کر دیئے کتنے انبیا مبعوث
ماخذ مصلحاں ہے تیرا کرم
جو تیری بندگی کے داعی ہیں
سب کے ورد زباں ہے تیرا کرم
آہ و فریاد کی نہیں حاجت
سب پہ ارزاں رساں ہے تیرا کرم
جو ازل اور ابد پہ حاوی ہے
سب پہ سایہ کناں ہے تیرا کرم
رند بھی گام زن سوئے طیبا
جانتے ہیں کہاں ہے تیرا کرم
صبر اور شکر کے مراحل میں
اک بڑا امتحاں ہے تیرا کرم
قلزم زیست میں ہے مدوجزر
اک بڑی ارمغاں ہے تیراکرم
خلق کو نار سے بچانے کو
ہادی مرسلاں ہے تیرا کرم
سر بزانو ہیں سارے افلاطوں
مشعل زیرکاں ہے تیرا کرم
چن رہا ہے شبیر حمد کے پھول
اس پہ یہ امتناں ہے تیرا کرم
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






