جیسے شاہین دکھوں کی فائل ہو
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjnتم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے درد کی گہرائی ہو
جیسے روح تک پتھرائی ہو
جیسے ہر سانس گھبرائی ہو
جیسے درد میرا شیدائی ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے بن ساز کے گیت ہو
جیسے بنا روگ کے پریت ہو
جیسے روٹھا روٹھا نصیب ہو
جیسے ہر شخص رقیب ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے بنا مفہوم کے لفظ ہو
جیسے بنا عروض کے غزل ہو
جیسے بنا سوز کے شاعری ہو
جیسے بند پڑی ڈائری ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے بنا جذ بات کے بات ہو
جیسے بن باراتی بارات ہو
جیسے بن بادل برسات ہو
جیسے الجھی بکھری بات ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے بنا جھنکار کے پائل ہو
جیسے دل زخمی گھائل ہو
جیسے راہ میں پتھر حائل ہو
جیسے شاہین دکھوں کی فائل ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






