جو وفا کی راہ میں پیرہن لئے تار تار چلے گئے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجو وفا کی راہ میں پیرہن لئے تار تار چلے گئے
انھیں کس طرح سے بلائیں ہم جو افق کے پار چلے گئے
لئے دِل میں دِل کے ہزار غم تیرے دِلفگار چلے گئۓ
کوئی جا کے اس کو خبر کرے ترے جانثار چلے گئے
چلی ایسی بادِ سموم کچھ کہ وفا کا باغ ا جڑ گیا
کبھی جن کی چھاؤں نصیب تھی وہی شاخسار چلے گئے
کبھی تو ہی جانِ حیات تھا ہوا آج مجھ پہ یہ منکشف
پِھرا رخ ہواؤں کا یوں مگر سبھی اِختیار چلے گئے
مرے دِل کا درد مٹا دیا مرے چارہ گر ترا شکریہ
تیرے تیر کش میں جو تیر تھے وہ جگر کے پار چلے گئے
اے امیرِ شہر بتا ذرا کِسے اب نِشانہ بناۓ گا ؟
جنھیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہگار چلے گئے
جو جہاں میں سچ کے امین تھے ملی داد ان کو تو یوں ملی
کہ گئے تو دامنِ جسم و جاں لئے تا ر تار چلے گئے
نہ جنوں رہا نہ وہ بانکپن ، نہ وہ صبح و شام کی فرصتیں
ترے عشق میں جو نصیب تھے وہ سبھی خمار چلے گئے
( طرحی مشاعرے میں بر زمین فیض لکھی گئی غزل )
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






