جتنے درد کے قصے تیری ، باتوں میں رہتے ہیں
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiجتنے درد کے قصے تیری ، باتوں میں رہتے ہیں
اتنے درد تو ہم لئے ، ہاتھوں میں رہتے ہیں
بُھلا دینے پر غم یہ متفق نہیں ہوتے
ہمارے دل میں جزبے بھی ، زاتوں میں رہتے ہیں
مراسم اس سے اب بھی ہیں مگر ملتے ہیں اسطرح
جیسے اجنبی دو پہلی سی ، ملاقاتوں میں رہتے ہیں
الفتِ محبوب میں تر رہتے ہیں یوں عاشقوں کے دل
جیسے پرندے بھیگے سے ، برساتوں میں رہتے ہیں
وہ کیا جانے عذاب بدلتے موسموں کا
جو سائبانوں میں پلتے ہیں ، چھاتوں میں رہتے ہیں
جو چہرے دن کے اجالوں میں تابناک دِکھتے ہیں
دیکھ جاکر کبھی وہ کسطرح ، راتوں میں رہتے ہیں
تو ڈھونڈتا ہے صفتِ اسلاف جس جماعت میں راہب
وہ جماعت والے اب کئی ، جماعتوں میں رہتے ہیں
عالم میں جہاں دیکھو ، دِکھتے ہیں یہ تنہا
اگرچہ مسلمان براعظم ، ساتوں میں رہتے ہیں
تجھے تردد ہے کلام کے معتبر ہونے میں اخلاق
یہاں تو آلاتِ موسیقی بھی اب ، نعتوں میں رہتے ہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






