تیری خوشبو کے موسم

Poet: محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ By: Mohammed Masood, Nottingham

چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا
دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا

تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا
میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا

تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے
جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا

تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں
جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا

تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے
تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا

رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے
میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا

عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے
یہ سبق تُو نے ہی مسعودؔ کو سکھایا تھا

Rate it:
Views: 1
16 Sep, 2026
More Sad Poetry