تھامے رہا
Poet: Rasheed Hasrat By: Rasheed Hasrat, Quettaوہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا
سبھی نے چھوڑ دیا، بد گمان تھامے رہا
فلک پہ تاروں کی محفل سجی ہوئی تھی کہیں
زمین زادہ کوئی آسمان تھامے رہا
حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا
میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا
وہ جانتا تھا کہ بھائی ہیں اس کے قبضہ گیر
وراثتوں میں شکستہ مکان تھامے رہا
لڑائی بھائیوں کے بیچ میں عروج پہ تھی
کلامِ پاک کوئی درمیان تھامے رہا
عروج و پستی و ناکامیوں سے گزرا ہوں
تمام عمر تعلق گٹھان تھامے رہا
ہمیں نماز کی فرصت کہاں ملی ہے کبھی
تھکا نہیں ہے مؤذن اذان تھامے رہا
خطا تھی ماںؔ کی بھگتنا پڑا نتیجہ ہمیں
مزہ لگا ہے تو انسان دھان تھامے رہا
بزرگ کرتے رہے اس کی بارہا تاکید
اُسی کے زیرِ اثر خاندان تھامے رہا
پتہ بتاؤں تمہیں کیا کہ میں ہوں خانہ بدوش
روایتوں کا امیں ہوں، گِدانؔ۱ تھامے رہا
جو کاروبارِ محبت میں منہ کی کھا کے گیا
کما کے دیتی ہے اس کو دکان، تھامے رہا
معافی چاہوں گا آنے میں مجھ کو دیر لگا
میں لوٹ آتا مگر میزبان تھامے رہا
مفاد ہم کو تھا حسرتؔ عزیز، چھوڑ آئے
رہا جو گاؤں سو پیچھے کسان تھامے رہا
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






